Amar Bail (March 2000 to March 2003)
Amar Bail (March 2000 to March 2003)
Amar Bail (March 2000 to March 2003)
امربیل
مجھے عمر سے صرف ایک شکایت تھی۔اس نے جوڈتھ کو کہتے سنا تھا۔وہ بیڈ پر پاوں اوپر کیے ہوئے بیٹھی ہوئی تھی۔علیزو جاتے جاتے رک گئی ۔جوڈتھ کی آنکھیں متورم تھیں۔وہ اس وقت جیسے کسی ٹرانس میں آئی ہوئی تھی۔ اس نے میرا خیال رکھا۔۔۔۔۔اس نے میری پرواہ کی۔اس نے میری خواہشات کا احترام کیا۔اس نے میرے ساتھ ہر چیز شیئر کی۔بس اس نے مجھ سے محبت نہیں کی۔ علیزہ نے مُڑ کر اسے دیکھا ۔جوڈتھ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ محبت ۔۔۔۔اس نے تم سے کی تھی۔وہ اب تھکے ہوئے انداز میں مسکرا رہی تھی۔ تمہاری منگنی والی رات میں اسلام آباد میں تھی۔اس نے مجھے رات دو بجے فون کیا ۔وہ بہت زیادہ ڈیپریس تھا مجھے حیرانی ہوئی۔کم از کم اس رات اسے ڈیپریس نہیں ہونا چاہیے تھا۔اس رات تمہاری اور جنید کی منگنی تھی۔اسے بہت خوش ہونا چاہیے تھا۔میں نے اس سے یہ کہہ دیا۔وہ بہت دیر تک خاموش رہا۔اتنی دیر کہ مجھے لگا،فون ڈس کنکٹ ہو گیا ہے۔پھر اس نے مجھ سے کہا۔ میں نے آج اس کو بہت رُلایا ہے۔بہت زیادہ،میں نے آج اس کو بہت جھڑکا ہے،وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے،وہ جنید کے ساتھ منگنی توڑنا چاہتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ میرے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔میں نے آج اس کو بہت جھڑکا ہے۔اُسے بہت رُلایا ہے۔میں تو اُس کے بغیر زندہ رہ نہیں سکوں گا۔مجھے تو اس سے بہت محبت ہے۔میں اسے کیسی جنید کے ساتھ دیکھ سکوں گا۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ اس نے،اس رات میرے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی۔میں تو تب تک یہی سمجھتی رہی تھی کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے لیکن وہ۔۔۔۔۔۔میں اگلے دن لاہور چلی آئی۔میں نے اس سے کہا۔ تم علیزہ کی بات مان لو،اگر تم اس سے محبت کرتے ہو تو اس سے شادی کرلو۔اس نے انکار کردیا۔اس نے کہا کہ وہ پچھلی رات شراب پی رہا تھا،شاید شراب کے نشے میں اس نے کوئی فضول بات کی ہوگی ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ہے مگر میں جان گئی تھی۔وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا یا شاید ویسی محبت نہیں کرتا جیسی تم سے کرتا ہے۔ وہ وہیں کہیں تھا۔اس کی راکنگ چیئر اسی طرح جھولتی ہوئی محسوس ہو ئی تھی جیسے وہ جُھلایا کرتا تھا،ہر چیز پر جیسے اس کا لمس موجود تھا،ہر طرف جیسے اُس کی آواز گونج رہی تھی۔وہی دھیما ٹھہرا لہجہ،وہی پر سکون دل،دل کے کہیں اندر تک اُتر جانے والی آواز۔۔۔۔علیزے۔اور پھروہی کھلکھلاتی ہوئے بے اختیار قہقہے۔اس کمرے میں سب کُچھ زندہ تھا۔واہمہ عکس بن گیا تھا اور عکس حقیقت بن کر اس کے اردگرد پھرنے لگا تھا۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے چلی آئی۔ایک سایہ اس کے ذہن میں لہرایا،ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں یکدم کوئی نظر آنے لگا۔اسے اپنی گردن پر،بالوں پرایک پھوار پڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں علیزہ کو Joy دوں گا پھر Eternity۔ اس نے مُڑ کر جوڈتھ کو دیکھا۔اس کے ہونٹ کپکپائے۔ وہ کچھ دیر دیکھتی رہی۔پھر لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ دروازہ کھول کر باہرچلی گئی۔