Haasil (June 2000)
Haasil  (June 2000)
Haasil (June 2000)
حاصل
''تم نے بائبل کو کس زبان میں پڑھا؟'' ''انگلش میں۔'' ''اور قرآن کو؟'' ''عربک میں۔'' ''تم نے بائبل کو کس عمر میں پڑھا؟'' ''انیس سال کی عمر میں۔'' ''اور قرآن کو؟'' ''دس سال کی عمر میں۔''وہ چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی۔ ''تم نے بائبل کو انیس سال کی عمر میں سکون کے لیے اس زبان میں پڑھا ،جسے تم جانتے ہو اور تمہیں لگا کہ تمہیں سکون مل گیاہے۔تم نے قرآن پاک کو دس سال کی عمر میں صرف ضرورت کے لیے اس زبان میں پڑھا جسے تم جانتے تک نہیں اور تمہیں لگا کہ تمہیں کچھ نہیں ملا۔ تم محمّد ۖ کے پیروکاروں میں سے ہو نا؟تمہیں پتا ہے انہوں نے کیسی زندگی گزاری تھی؟ہم نہیں جانتے اللہ کو ہم سے محبّت ہے یا نہیںمگر اس دنیا کا ایک انسان ایسا ضرور ہے جس کے بارے میں ہم بغیر کسی شبہے کے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کو اس سے محبّت ہے اور وہ ہیں محمّد ۖاور جس انسان سے اللہ نے سب سے زیادہ محبّت کی اسے بھی آزمائشوں سے گزارا۔تم ماں باپ سے اس وقت محروم ہوئے جب تم ان کے محتاج نہیں رہے تھے۔محمّد ۖ نے اپنے باپ کی شکل تک نہیں دیکھی ،ان کی ماں اس وقت دنیا سے چلی گئیں جب ماں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔تمہارے قدموں میں کسی نے کانٹے نہیں بچھائے ہوں گے۔تمہارے جسم پر کسی نے غلاظت اور کوڑا کرکٹ نہیں پھینکا ہوگا۔محمّد ۖ کے ساتھ مکّہ کی گلیوں میں یہی سب ہوتا تھا۔تم تو ماں باپ کے حوالے سے ہونے والی تھوڑی سی بدنامی سے ڈرگئے ۔انہیں تو پورا مکّہ پتا نہیں کیا کیا کہا کرتا تھا۔تم کہتے ہو ،تمہارا خاندان ختم ہوگیا ہے۔تمہارے رشتہ داروں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے انہیں توتین سال تک ایک گھاٹی میں قید کردیا گیا تھا۔تم پر کسی نے پتّھر نہیں برسائے ،ان پر برسائے گئے تھے۔تمہاری تو کوئی اولاد نہیں ہے،تم نے صرف اپنے ماں باپ اپنے ہاتھوں سے دفنائے ہیں۔انہوں نے اپنی اولادیں،اپنے بیٹے اپنے ہاتھوں دفنائے تھے۔تمہیں خدا نے کبھی رزق کی کمی کا شکار نہیں کیا ۔انہوں نے تو فاقے بھی کاٹے تھے۔تم اللہ سے برگشتہ ہوگئے۔مذہب بدلنے پر تیار ہوگئے،مگر انہوں نے اللہ سے شکوہ کیا نہ اسے چھوڑا۔تمہیں پتا ہے محمّد ۖ سے اللہ کو اتنی محبّت کیوں ہے؟اسی وجہ سے اللہ کو ان سے محبّت ہے۔''