Mey ney khwabon ka shajr dekha hey. ( December 1998)
Mey ney khwabon ka shajr dekha hey. ( December 1998)
Mey ney khwabon ka shajr dekha hey. ( December 1998)
میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے۔
ایک آگ سی میرے وجود کو جلارہی تھی۔میں نے کار کا دروازہ کھول کر نیچے اترتے ہوئے اس بنگلے پر نظردوڑائی۔وہ میرے بنگلے سے بہت بڑا تھا۔آگ بھڑکتی ہی جارہی تھی۔میں گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔کال بیل بجاتے ہوئے میں نے گھر کے مالک کا نام پڑھا۔مجھے لگا،کسی نے مجھے دھکیل کر پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا ہو۔شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی۔ چند لمحے بعد گیٹ کھول کر ایک چوکیدار باہر آیا۔اس نے مجھ سے میرے آنے کا مقصد پوچھاتھا۔میں اسے جواب دینے کے بجائے دروازہ دھکیل کر اندر چلی گئی۔وہ میرے پیچھے آیا مگر مجھے روک نہیں سکا۔سامنے وسیع و عریض پورچ میں ایک بچہ سائیکل چلارہا تھا۔وہ مجھے دیکھ کر رک گیا۔میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔کسی نے میرے گلے میں پھندا ڈال دیا۔چہرہ شناسا تھاآج زوال کا دن تھا۔میں لپکتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ ''تمہارا نام کیا ہے؟؟'' ''ولید عمر۔''اس نے کچھ کنفیوز ہوکر جواب دیا کسی نے پھندے کو کس دیا تھا۔ ''تمہاری امّی کہاں ہیں؟''میں نے رکتی سانس کے ساتھ پوچھا۔اس نے ہاتھ سے میری پشت کی طرف اشارہ کیا۔میں پیچھے مڑگئی،ایک عورت لان سے میری طرف آرہی تھی۔میں نے اس کے چہرے پر نظر دوڑائی۔چہرہ پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔سب کچھ شناسا تھا۔کسی نے میرے پیروں کے نیچے سے تختہ نکال لیا۔میں پھندے سے جھولنے لگی تھی۔اس نے بھی مجھے دیکھا تھا۔اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا ۔اس نے دوبارہ مجھ پر نظر نہیں ڈالی۔وہ میرے پاس سے گزر کر اپنے بیٹے کے پاس گئی اور اسے لے کر اندر چلی گئی۔میں بھاگتی ہوئی گیٹ سے باہر آگئی۔ڈرائیور نے مجھے دیکھ کر دروازہ کھول دیا۔میںنے اندر بیٹھ کر آنکھیں بند کرلیں۔دنیا ختم ہوگئی تھی۔سب کچھ تباہ ہوگیا تھااور میں۔۔۔۔۔میں زندہ تھی۔