Lahaasil (September 2001 to December 2001)
Lahaasil (September 2001 to December 2001)
Lahaasil (September 2001 to December 2001)
لاحاصل
''میں کون ہوں؟'' ''آخر کون ہوں میں؟The incarnation of evil(مجسم ِشیطان) میری خوہشات نے مجھ کو کیا بنا دیا ہے۔میرے خواب مجھے کہاں لے آئے ہیں؟''اسے اپنی پوری زندگی ایک فلم کی طرح چلتی محسوس ہوئی۔ The trees ask me And the sky And the sea asks me Who am I?Who am I? اسے کانونٹ میں گائی جانے والی ایک نظم یاد آنے لگی تھی۔ میں۔۔۔۔۔اُمَِ مریم ہوں ۔ایک طلاق یافتہ عورت کی بیٹی ایسی عورت جس کو اس کے شوہر نے کم جہیز لانے پر طلاق دے دی ۔ (کیا پیسے کی خواہش میں نے اس عورت کے خون سے لی تھی جسے میری پیدائش سے پہلے اور بعد میں صرف یہ کہا جاتا تھا،تمہارے پاس کیا ہے؟تم کیا لائی ہو؟'' اسی عورت جس نے مجھے تین سال کے عمر میں اس وقت کسی دوسرے کو تھما دیا جب اسے دوسری شادی کرنی تھی اور کوئی اسے بیٹی کے ساتھ قبول کرنے پر تیار نہیں تھا نہ دوسرا شوہر نہ سابقہ شوہرنہ ہی اس کے میکے والے۔ہر جگہ غُربت تھی۔''تو کیا یہ اس غربت نے۔۔۔؟'' ایک ایسے باپ کی بیٹی جو پیسے کے لالچ میں گرفتار تھا۔۔۔۔اس حد تک کہ اس نے رشتے توڑنے میں بھی دیر نہیں لگائی۔۔۔۔۔اس نے اپنی بیوی کو بیٹی سمیت چھوڑدیا ۔(کیا یہ ہوس میں نے اس شخص سے لی؟؟) میں اُمِ ِمریم ہوں جسے تین سال کی عمر میں دو ایسے انسانوں نے گود لیا ۔۔۔۔جن کے پاس صبر اور شکر کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔