Aks (2011 till December 2012)
Aks  (2011 till December 2012)
Aks (2011 till December 2012)
عکس
خیردین کو اندازہ نہیں ہوا وہ اسے اپنے اگلے کام کے لیے انفارم کر رہی تھی۔اس نے سر جھکا کر عکس کے اس ہاتھ کو دیکھا جس میں اس نے خیردین کے ہاتھ کو لیا ہوا تھا۔مخروطی انگلیوں والا بہت نرم ہاتھ جو کبھی بہت چھوٹا سا تھا اور خیردین نے اسے قلم تھما کر اس کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر اسے لکھنا سکھا یا تھا۔۔ٹیڑھی میڑھی لکیریں۔۔۔آڑے ترچھے حروف۔۔۔۔۔ٹوٹے پھوٹے لفظ۔۔۔۔اور پھر اپنا نام۔۔۔۔عکس مرادعلی۔۔۔اور اب جب وہ ہاتھ کاغذ پر اپنا نام لکھا کرتا تھا تو وہ حکومتی فرمان ہوتھا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس ہاتھ میں بہت طاقت تھی اور اس قلم میں اس سے زیادہ۔۔۔جس سے وہ اپنے علم سے دنیا کو متعارف اور متاثر کیا کرتی تھی۔۔۔۔۔وہ اس ننھی سی بچی کے ہاتھ میں قلم کے بجائے جھاڑو پکڑانے پر اصرار کرتا تو وہ بھی وہی ہوتی اور ہی بنتی جو اس کے گاوں اور خاندان کی ساری لڑکیاں بنتی تھیں۔۔۔بے شناخت وجود۔۔۔جن کے پاس انگوٹھا ہوتا تھا،دستخط نہیں۔۔۔۔