Man-o-Salwa (November 2006 to November 2007)
Man-o-Salwa  (November 2006 to November 2007)
Man-o-Salwa (November 2006 to November 2007)
من و سلویٰ
وہ تین سال کی تھی جب اُس نے بندر کا تماشہ دیکھا تھا اور پھر وہیں کھڑے کھڑے اُس بندر کو گھر لے جانے کی فرمائش کی تھی۔ضیاء ہنسنے لگے تھے۔انہوں نے اس فرمائش کو اس کی معصومیت سمجھا تھا مگر یہ زینی کا ''مطالبہ'' تھا،یہ انہیں چند منٹوں میں پتہ چل گیا تھا۔وہ بندر کے بغیر وہاں سے جانے کو تیار نہیں تھی اور ضیاء ایک قدم بھی وہاں سے اٹھاتے تو وہ چیخیں مار مار کر روتے ہوئے بری طرح ان کی گرفت میں مچلنے لگتی۔ انہیں یقین تھا وہ اسے نیچے اتارتے تو وہ زمین پر بیٹھ کر اسی طرح ٹانگیں چلاتی۔انہوں نے اُس سے بہت وعدے کیے تھے،بہت سی دوسری چیزیں دلوانے کی کوشش کی تھی مگر زینی کو صرف بندر چاہیے تھا اور ابھی چاہیے تھا۔وہ بادل نا خواستہ مداری سے بندر کو خریدنے کے لیے بھاو تاو کرنے لگے۔مداری وہ بندر بیچنے پر تیار نہیں تھا،البتہ اس کے گھر پر ایک چھوٹا سا بندر تھاجسے وہ ضیاء کو بیچنے پر تیار ہوگیا تھامگر اس کا گھر جس کچی بستی میں تھا وہ وہاں سے چار میل دور تھی۔ ضیاء زینی کو اُٹھائے پیدل اس بندر والے کے ساتھ اسی بستی میں گئے،وہاں سے وہ بندر خریدااور ایک بار پھر چار میل کا فاصلہ طے کرکے جوُن جولائی کے موسم میں جب پسینے میں شرابور گھر پہنچے تو اس وقت عشاء کا وقت ہورہا تھا۔زینی بے پناہ خوش تھی۔سارا راستہ باپ کے ہاتھ میں پکڑی رسی سے بندھے بندر کو اپنے ساتھ چلتے دیکھ کر ہنستی اور باپ سے باتیں کرتی رہی اور ضیاء اسے دیکھ کر خود بھی ہنستے رہے۔وہ ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھے،ایک بندر کی رسی کو ہاتھ میں لیے گھر آتے دیکھ کر ان کے جاننے والوں نے کیا سوچا ہوگا،ضیاء نے یہ نہیں سوچا تھا۔ان کے لیے اتنا کافی تھا کو زینی پہلے کی طرح چہک رہی تھی۔ نفیسہ اس بندر کو دیکھ کر بے حد ناراض ہوئی تھیںیہ جان کر اس سے زیادہ کہ وہ بندر ضیاء کی اس ماہ کی تنخواہ کے چوتھائی حصے سے خریدا گیا تھامگر نفیسہ کی ناراضی اب بے کار تھی،بندر خریدا جا چکا تھا۔ اگلے کئی دن زینی صحن میں بندھے اس بندر کے ساتھ کھیلتی رہی۔یہ سلسلہ مزید طویل ہوتھ اگر ایک دن ضیاء کی موجودگی میں وہ بندر اچانک زینی پر جھپٹ کر اس کے بازو کو اپنے کھرونچوں سے زخمی نہ کردیتا۔ضیاء نے شُکر ادا کیا تھا کہ وہ اس وقت وہاں تھے،ورنہ بندر زینی کو زیادہ نقصان بھی پہنچا سکتا تھا۔وہ اس گھر میں بندر کا آخری دن تھا۔ضیاء اگلے دن اسے کسی کو دے آئے تھے۔زینی اگلے کئی دن اس بندر کے لیے روتی رہی مگر پھر آہستہ آہستہ بہل گئی۔ مگر اس کے بعد اسے ہمیشہ اپنی مرضی کی ہر چیز ہر قیمت پر لے لینے کی عادت پڑگئی تھی۔وہ ضیاء کے ساتھ عید کے میلے میں جاتی اور سب سے مہنگے کھلونے پر ہاتھ رکھتی۔ضیاء ایک لفظ کہے بغیر اسے وہ چیز دلا دیتے۔ زینی نے زندگی کو عید کا میلہ سمجھ لیا تھا،جہاں وہ جب بھی جاتی سب سے مہنگی چیز کے ساتھ لوٹتی کیونکہ وہ باپ کے ساتھ جاتی تھی اور یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ باپ زینی کو خالی ہاتھ لے آتا اور آج پہلی بار باپ اپنی اولاد کو خالی ہاتھ دیکھ رہا تھا اور یہ چیز ان سے برداشت نہیں ہورہی تھی۔ ''خالد صاحب کا بیٹا بہت اچھا،بہت شریف لڑکا ہے۔وہ شیراز سے شکل و صورت میں کئی گنا اچھا ہے۔صرف افسر نہیں ہے مگر زینی!وہ لوگ بہت قدر کریں گے تمہاری۔ ' ' ضیاء نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ ''بات شکل و صورت اور افسری کی ہے ہی نہیں ۔بات تو شیراز کی ہے۔وہ جو مرضی ہو،شیراز تو نہیں ہوگا۔'' اس نے ایک بار پھر اسی طرح کہا تھا۔ضیاء کو بے اختیار وہ بندر یاد آگیا تھا جو اسے بعد میں زخمی کر کے گیا تھا۔وہ نہیں جانتے تھے،ٹھیک اسی وقت زینی کو بھی وہ بندر یاد آرہا تھامگر اس کے زخم یاد نہیں آئے تھے۔صرف یہ یا د آرہا تھا کہ باپ اس بندر کو خود ہی ایک دن کہیں چھوڑآیا تھا اور وہ پھر کئی دن روتی رہی تھی۔ ''وہ بازار کی کوئی شے ہوتی تو میں ہر قیمت پر اسے خرید کر لادیتا،پر وہ انسان ہے۔میں انسان کیسے خرید کر لاوں۔'' ضیاء نے دل گرفتگی سے کہا۔ ''اس کی منگیتر کے باپ نے تو اسے خرید کر دے دیا اپنی بیٹی کو۔انسان خریدے نہیں جاتے تو اس نے کیسے اسے خرید کر اپنی بیٹی کا مقدر بنا لیا۔'' وہ اب بھی جیسے عید کے میلے میں کھڑی تھی،جہاں سب سے مہنگا کھلونا اس کے بجائے کوئی اور بہتر دام دے کر اپنی بیٹی کے لیے لے گیا تھا۔ ''جو انسان پیسے سے خریدا جاسکتا ہو،میں اپنی زینی کا مقدر اس کے ساتھ تو کبھی نہ جوڑتا۔''زینی نے گردن اٹھا کر باپ کو دیکھا۔ ''چاہے زینی رو رو کر مرجاتی؟؟''اس نے باپ سے سوال کیا۔ ضیاء نے سر جُھکا لیا۔اُن کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو بہنے لگے تھے۔''میں بہت بے بس ہوںزینی بہت بے بس۔میرے ہاتھ میں کُچھ نہیں ہے۔اولاد کا مقدر ماں باپ کے ہاتھ میں ہوتا تو سارے ماں باپ پوری دنیا اُٹھا کر صرف اپنی اولاد کو دے دیتے۔'' من و سلویٰ