Hum kahan key sachey they (August 1998 to November 1998)
Hum kahan key sachey they (August 1998 to November 1998)
Hum kahan key sachey they (August 1998 to November 1998)
ہم کہاں کے سچّے تھے۔
جنہیں سچ سے محبّت ہوتی ہے اور جو سچّے ہوتے ہیں وہ میرے اور مشعل کی طرح چِلّاتے نہیں پھرتے۔خود کو اصول پرست،صاف گو ،کھرے اور پتہ نہیں کس کس لیبل کے ساتھ پیش نہیں کرتے،وہ مہرین کی طرح ہوتے ہیںجنہیں خود اپنی پہچان نہیں کروانا پڑتی نہ اپنا تعارف کروانا پڑتا ہے ،لوگ جان جاتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور جو نہیں جان پاتا وہ اسود علی ہوتا ہے خود ساختہ سچّا اور self reformer جسے پھر اپنے کیے پر ساری عمر پچھتانا ہوتا ہے۔ اور یہ پچھتاوا تو اب ساری عمر میرے ساتھ رہے گا کیونکہ مہرین منصور کو ہمیشہ میرے سامنے رہنا تھا اور مجھے اس سے نظر بھی ملانی تھی بات بھی کرنی تھی اور یہ سب ساری عمر ہونا تھا اور میں اب کیسے اسے کبھی یہ کہہ پاوئں گا کہ مجھے سچ سے محبّت ہے اور جھوٹ سے بے پناہ نفرت؟وہ میری بات پر اتنا ہنسے گی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔ میں نے ایک بار پھر اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔میرا دل چاہا میں اس کے چہرے کو ہاتھ لگاوئں،بہت نرمی سے میں نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ''سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا مہرین ،سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔میں تمہارے لیے اس ملک کے سب سے بہترین سائیکاٹرسٹ کا انتظام کروں گا۔میں تمہارے سب دوستوں کو واپس لاوئں گا۔میں تمہیں وہ سب واپس دلاوئں گا جو تم نے خود حاصل کیا۔اور پھر میں تم سے کہوں گا کہ تم مجھے معاف کردو۔اور مجھے وہ پرانا اسود علی بن جانے دو جس کی زندگی میں مشعل اکبر نہیں تھی اور جو لوگوں سے بدلہ نہیں لیا کرتا تھا۔'' میں نے اس سے سرگوشی کی تھی۔یک دم اس کا چہرہ میری آنکھوں میں دھندلا گیا اور پتہ نہیں کہاں سے پانی آگیا تھا۔ ''تم سزا جزا کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش مت کرو۔تمہیں کیا پتا کون گناہ گار ہے کون بے گناہ؟یہ علم تو اللہ کے پاس ہے اور یہ اختیار بھی اس کے پاس رہنے دو۔ایسا نہ ہو کہ تمہیں پچھتانا پڑے۔'' میرے کانوں میں بہت عرصے پہلے امّی کی کہی ہوئی بات گونجی تھی۔میں نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے آنکھوں کی نمی کو ہاتھ سے صاف کرنے کی کوشش کی مگر پانی تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔