Meri Zaat zara bay nishaan (February 1999)
Meri Zaat zara bay nishaan (February 1999)
Meri Zaat zara bay nishaan (February 1999)
میری ذات ذرہ بے نشاں۔۔۔۔عمیرہ احمد
ًُّْْٔۖ''میں بے قصور ہوں۔میں نے کوئی گُناہ نہیں کیا ہے مگر میرے پاس کوئی ثبوت نہیں۔۔'' ''میں سچ بولتی ہوں ۔تمہیں اعتبار نہیں آتا۔میں جھوٹ بولوں گی تم یقین کرلو گے۔تم پہلے ہی دوسروں کی باتوں کا یقین کرچکے ہو۔مجھ سے تو صرف تحقیق چاہتے ہو۔'' ''اللہ دلوں میں بستا ہے تم اپنے دل سے پوچھو،میں بے گُناہ ہوں یا نہیں۔'' ایک آواز اس کی سماعتوں میں رقص کرنے لگی تھی۔وہ آواز کا گلا نہیں گھونٹ سکتا تھا،وہ بسترِمرگ پر پڑی ہوئی ماں کو کھلے عام ملامت بھی نہیں کرسکتا تھا اور اُسے صبا کے سامنے بھی جانا تھا۔ ہم دیکھیں گے۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ وہ دِن کہ جس کا وعدہ ہے۔ ہم دیکھیں گے۔ چچا کے گھر ریڈیو پر مُغنیہ بلند آواز میں گارہی تھی۔ ''عارفین!تم جاوگے نا؟؟''اسے باپ کی آواز سنائی دی تھی،اس نے بے بسی سے ہونٹ بھینچ لیے۔