Thora sa asmaan
Thora sa asmaan
Thora sa asmaan
تھوڑا سا آسماں
پچھلے سولہ سال سے مسترد ہونے والا وجود اب ریجیکشن کا پورٹریٹ بن چکا تھا۔ایک ماسٹر پیس بن چکا تھا،ذلّت ،بے عزتی،بے قدری اور بے حسی کا بس یہ فرق تھا کہ یہ پورٹریٹ ایک زندہ انسان کا تھا جس پر سولہ سال سے لگائے جانے والے ہر رنگ کے اسٹروک خشک ہونے کے بعد سیاہ رنگ میں بدل جاتے تھے۔اور اب یہ پورٹریٹ وہی سیاہ رنگ دنیا میں موجود ہر انسان کے وجود پر لگادینا چاہتا تھا جو لوگ فاطمہ مختار کو جانتے تھے ،ان میں سے کوئی بھی اسے پسند نہیں کرتا تھا۔