Peer-e-Kamil (July 2003 to February 2004)
Peer-e-Kamil  (July 2003 to February 2004)
Peer-e-Kamil (July 2003 to February 2004)
پیر ای کامل
''میں ہمیشہ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں،مگر کوئی بھی مجھے اس کا تسلّی بخش جواب نہیں دے سکا،اس لئے میں اس سوال کا جواب خود ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہوں۔''وہ بولتا رہا۔ ''کیا پوچھتے ہو تم لوگوں سے؟؟'' ''بہت آسان سا سوال مگر ہر ایک کو مشکل لگتا ہے۔What is next to ecstasy?''اس نے گردن موڑ کر اِمامہ سے پوچھا۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔''Pain'' "And what is next to pain?"سالار نے بلا توقّف ایک اور سوال کیا۔ ''Nothingness'' ''What is next to nothingness?''سالار نے اسی انداز میں ایک اور سوال کیا۔ ''Hell''اِمامہ نے کہا۔ ''And what is next to hell?''اس بار اِمامہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ''What is next to hell?''سالار نے پھر اپنا سوال دُہرایا۔ ''تمہیں خوف نہیں آتا۔''سالار نے اَمامہ کو قدرے عجیب سے انداز میں پوچھتے سنا۔ ''کس چیز سے؟''سالار حیران ہوا۔ ''Hell سے۔۔۔۔اس جگہ سے جس سے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔سب کچھ اسی کے پیچھے ہی رہ جاتا ہے۔۔۔۔معتوب اور مغضوب ہوجانے کے بعد باقی بچتا کیا ہے جسے جاننے کا تمہیں تجسّس ہے۔'' اِمامہ نے قدرے افسوس سے کہا۔ ''میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا۔۔۔۔۔سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزرا ہے۔''سالار نے جیسے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔ ''فکر مت کرو۔۔۔۔آجائے گی۔۔۔۔ایک وقت آئے گا ۔۔۔۔۔جب تمہیں ہر چیز کی سمجھ آجائے گی پھر تمہاری ہنسی ختم ہوجائے گی۔۔۔۔تب تمہیں خوف آنے لگے گا۔۔۔۔۔موت سے بھی اور دوزخ سے بھی۔۔۔۔۔اللہ تمہیں سب کچھ دکھا اور بتا دے گا۔۔۔۔۔پھر تم کسی سے یہ نہیں پوچھا کرو گے۔What is next to ecstasy?''اَمامہ نے بہت رسانیت سے کہا۔